The news is by your side.

افغانستان میں 20 سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ

0

امریکا اور ان کے اتحادیوں نے 2001 میں جب افغان جنگ کا آغاز کیا تو انہیں بہت جلد اندازہ ہوا کہ وہ اپنے نئے میدان جنگ سے زیادہ واقف نہیں ہیں ۔ افغانستان کی قبائلی روایات کو سمجھنے کے لئے ملک کی عسکری سرگرمیوں کے مراکز پر ماہر بشریات کو تعینات کیا گیا تاکہ قبائلی انداز زندگی کو سمجھا جا سکے ۔ لیکن یہ سب کچھ ان کی سمجھ سے باہر ہی رہا ۔

افغانستان پر قبضہ کرنے والوں کا خیال تھا کہ افغان عوام کا دل جیتنے میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی ، عورتوں اور بچیوں کے لئے تعلیم کے مواقع پیدا کرنا ، ذرعی ترقی کے لئے کام کرنا اور سب سے بڑھ کر اربوں ڈالر خرچ کرکے افغان فوج کو تیار کرکے طالبان کے خلاف کھڑا کرنا، افغانستان میں جڑیں قائم کرنے میں مددگار ہوگا ۔ لیکن وقت نے دیکھا کہ یہ سب کوششیں عارضی کامیابی ثابت ہوئیں ۔

طالبان نے بڑے صبر کے ساتھ وقت کی ہزیمتوں کا سہا ۔ اپنے عمائدین کی ذلت برداشت کی اور آج وہ فاتح کی حیثیت سے افغان صدر کے پیلس میں براجمان ہیں ۔ افغان صدر اشرف غنی اور ان کے نائب ملک سے فرار ہوچکے ہیں ۔ طالبان کے مکمل کنٹرول کے ساتھ ہی مغربی ممالک کے کئی سفارت خانہ بند ہوچکے ہیں ۔

امریکا نے ببانگ دہل کہا تھا کہ افغانستان میں امریکی سفارت خانہ بند نہیں کیا جائے گا اور مختصر سفارتی عملہ اپنے فرائض انجام دیتا رہے گا لیکن طالبان کے کابل پر قبضہ کے بعد اب امریکی سفارت خانہ بھی بند کردیا گیا ہے ۔ امریکی سفارتی عملہ کے باحفاظت انخلاء کے لئے امریکی صدر نے ایک ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

جہان اس صورتحال میں مغربی و یورپی ممالک اپنے سفارت خانے بند کررہے ہیں وہیں پاکستان ، ترکی اور روس نے اپنے سفارتی مشن کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے ۔ اس حوالہ سے روسی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے روسی سفارت خانہ کے تحفظ کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ ترکی نے بھی اپنے سفارتی عملہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ پاکستانی سفارتی عملہ بدستور اپنے فرائض کی انجام دہی کرتا رہے گا اور اس کے علاوہ غیر ملکیوں کے انخلاء میں معاونت بھی کرے گا ۔

دوسری جانب طالبان نے امریکا سے شیر ہرات کا خطاب پانے والے محمد اسماعیل کو معاف کرکے رہا کردیا ہے ۔ افغان طالبان نے کابل میں داخل ہونے کے بعد ہتھیار ڈالنے والوں کے لئے عام معافی کا اعلان کردیا ہے ۔ طالبان قیادت نے اپنے جنگجوؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں ۔ کابل میں طالبان کی داخلہ کی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کابل کے لوگ طالبان کے شہر میں داخلہ کو چھتوں پر چڑھ کر بغیر کسی خوف وہراس کے دیکھ رہے ہیں ۔

افغان طالبان کے ترجمان کا بیان سامنے آیا ہے کہ لوگ ملک چھوڑ کر نہ جائیں ، ہم انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ لوگ یہاں محفوظ رہیں گے ۔ طالبان کا ظہور 1992 میں ہوا تھا اور آج 2021 میں 29 سال کے بعد وہ ملک کے فاتحین کے طور پر باگ دوڑ سنبھال چکے ہیں ۔ طالبان کے پرامن ہونے کی گواہی اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونسیف نے کی ہے کہ ان کے دفاتر کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا اور نا ہی کسی فرد کو ناحق مارا پیٹا یا دھمکایا گیا ہے ۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ کابل شہر کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء تک کسی بھی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے ۔ کابل میں تمام لوگوں کی جان ، مال اور عزتیں محفوظ ہیں ۔ کوئی عبوری حکومت قائم نہیں ہوگی فوری انتقال اقتدار ہوگا ۔ فاتح کی حیثیت سے یہ ہمارا حق ہے ۔ پورے ملک کے لئے عام معافی کا اعلان بھی ترجمان کی جانب سے کیا گیا ۔

اسلامی امارت افغانستان کے دروازے تمام افراد کے لئے کھلے ہیں جنہوں نے طالبان کے خلاف حملہ آواروں کی مدد کی ۔ امریکی نواز کابل انتظامیہ کے افراد بھی ملک و قوم کی خدمت کے لئے ہمارے ساتھ کام کرسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پل خمیری کے بدنام زمانہ جیل سے بیگناہ قیدیوں کو بھی رہا کردیا گیا ہے ۔ اس حسن عمل سے قیدیوں اور عوام میں جشن کا سماں

طالبان کے ترجمان کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ خواتین کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا ۔ مال غنیمت میں آنے والا جدید ترین امریکی اسلحہ سے ہماری دفاعی پوزیشن اور بھی مستحکم ہوگئی ہے ۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.