The news is by your side.

طالبان اور خواتین آمنے سامنے

0

سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر دنیا بھر کی خواتین ایک طاقتور مہم کے ساتھ  طالبات کے لئے طالبان کے سخت ڈریس کوڈ  کے خلاف متحرک ہیں ۔

ٹوئیٹر پر افغان خواتین اپنی ، اپنے اہل خانہ کی روایتی افغان لباس میں تصاویر کا تبادلہ کررہی ہیں تاکہ افغان ثقافت کے رنگ لباس کے سنگ دکھا سکیں ۔ ٹوئیٹر پر ڈو ناٹ ٹچ مائی کلوتھ کا ہیش ٹیگ کافی ٹرینڈنگ میں جارہا ہے ۔

یہ مہم افغانستان میں امریکی یونیورسٹی کی پروفیسر بہار جلالی نے طالبان کی جانب سے خواتین طلبہ کے لئے حجاب کو لازمی قرار دینے کے بعد شروع کی گئی ۔

پروفیسر جلالی کا کہنا ہے کہ طالبان کا خواتیں کو لیکر رویہ افغانستان کی شناخت اور خود مختاری پر ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے ۔ انہوں نے اس ضمن میں ٹوئیٹر پر اپنی ایک تصویر سبز افغانی لباس مین شئیر کی اور دیگر افغان خواتین سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی افغانستان کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھانے کے لئے اپنی تصاویر کا اشتراک کریں ۔

افغان خواتین نے بہت جوش خروش سے اس مہم کا حصہ بننے اور طالبان کی جانب سے کالے حجاب کی مخالفت بننے میں روایتی رنگین افغان لباس میں اپنی تصاویر کا اشتراک کیا ۔

ڈی ڈبلیو نیوز میں افغان سروس کی سربراہ وسعت حست ناظمی نے مہم کا حصہ بننے کے لئے اپنی ایک روایتی لباس میں تصویر کا اشتراک کیا ۔

ٹوئیٹر مہم کا حصہ بننے والی افغان صحافی ملالائی بشیر جو پراگ میں مقیم ہیں نے تصویر کے اشتراک کے ساتھ لکھا کہ گاؤں میں برقعہ پہننا کبھی بھی معمول نہیں تھا اور خواتین اپنی پسند کا علاقائی لباس شوق سے زیب تن کیا کرتی تھی ۔ بڑی عمر کی خواتین عموما سر ڈھانپ کر رکھتی اور چھوٹی بچیاں یا لڑکیاں شال کا استعمال کیا کرتی تھیں ۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.