The news is by your side.

نازیہ حسن : آپ جیسا کوئی اب زندگی میں نہیں

0

نازیہ حسن برصغیر میں پاپ میوزک کے بانیان میں شمار کی جاتی ہیں ۔ نازیہ 3 اپریل 1965 میں کراچی میں پیدا ہوئیں ۔ تعلیم کراچی اور لندن سے حاصل کی ۔

بھارتی فلم قربانی کا مشہور زمانہ گیت "آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے” گا کر نازیہ محض 15 سال کی عمر میں راتوں رات اسٹار بن گئیں تھی ۔

اس گانے کے لئے انہیں فلم قربانی کی ہیروئین زینت امان کی فرمائش پر آڈیشن کے بعد منتخب کیا گیا تھا ۔ زینت امان لندن میں واقع منیزہ بصیر حسن کے گھر میں گٹار کی موجودگی سے چونکی تھیں ۔ ان کے دریافت کرنے پر منیزہ نے بتایا کے ان کے دونوں بچے نازیہ اور زوہیب میوزک کے دلدادہ ہیں اور گٹار بھی بجاتے ہیں ۔ نازیہ اس بات چیت کے دوران گھر پر ہی موجود تھیں ۔ منیزہ نے نازیہ کو بلوا کر زینت امان کو ان کا گانا بھی سنوایا ۔ زینت نازیہ کی آواز سن کر بہت خوش ہوئیں اور ان الفاظ میں تعریف کی "نازیہ کی گائیکی قابل تعریف ہے ، یہ بہت منفرد آواز کی مالک ہے۔”

منیزہ بصیر نے اس وقت یہ بات کہہ سن کر بھلا دی تھی لیکن زینت نے نازیہ کی آواز سے متاثر ہوکر اگلے ہی دن منیزہ کو فون کیا اور بتایا کہ پروڈیوسر ایکٹر فیروز خان اپنی آنے والی فلم کے گانے کے لئے ایک نئی آواز کی تلاش میں ہیں اور نازیہ کی بے مثل آواز انہیں بھی متاثر کرسکتی ہے ۔ منیزہ نے سن کر ہی انکار کردیا لیکن زینت کے اصرار پر نازیہ حسن کے والد بصیر حسن سے ایک دفعہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی ۔

بصیر حسن کی اجازت سے نازیہ حسن نے فلم میوزک ارینجر بدو کے اسٹوڈیو میں یہ گیت اسکول یونیفارم میں ریکارڈ کروایا تھا ۔ اس وقت کسی کے وہم و گمان میں یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ اسکول کی یہ بچی ایک تاریخ ریکارڈ کروا رہی ہے ۔ فلم قربانی کے اس گیت کی دھن "یو ول نیور فائنڈ” کی دھن سے متاثر ہوکر بنائی گئی تھی ۔

اس گانے کو ریکارڈ کرواکر نازیہ اپنی تعلیم میں مصروف ہوکر بھول ہی گئیں کہ انہوں نے کوئی گانا ریکارڈ کروایا تھا ۔ فلم کی ریلیز نے اس گانے کو مقبولیت کی اونچائیوں تک پہنچا دیا تھا ۔ منیزہ کے بیان کے مطابق ایک دن انہیں بھارتی فلم اسٹار راج کپور کا فون آیا جس میں انہوں نے اس گانے کو فلم فئیر ایوارڈ کے لئے نامزد ہی نہیں کیا بلکہ کمیٹی نے نازیہ کے حق میں فیصلہ بھی دے دیا ہے کیا آپ اس ایوارڈ کو وصول کرنے کے لئے تقریب میں شامل ہوسکیں گے ؟

نازیہ حسن نے جس عمر میں یہ ایوارڈ حاصل کیا تھا اب تک یہ ریکارڈ فلم فئیر کی 66 سالہ تاریخ میں ناقابل شکست ہے ۔ نازیہ کو یہ ایوارڈ شومین کہلانے والے راج کپور نے دیا تھا ۔ ناذیہ حسن کو بھارتی فلموں میں کام کرنے کی متعدد بار بلینک چیک کے ساتھ آفر کی گئی لیکن نازیہ کی ناں ہاں میں نہ بدلی ۔

نازیہ حسن پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار ہوکر 13 اگست 2000 میں اس جہان فانی سے رخصت ہوگئیں ۔ اپنے مداحوں کے لئے ترکہ میں اپنی میوزک البمز چھوڑ گئیں ہیں ۔ نازیہ حسن دنیائے موسیقی میں اپنی منفرد آواز اور معصومیت کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔

 

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.