The news is by your side.

گوادر کی صورتحال پر وزیر اعظم کا ردعمل

0

گوادر میں ہونے والی ریلی کو آج 29 واں دن ہے لیکن ملکی میڈیا پر آپ کو اس کی کوریج کہیں نظر نہیں آرہی ہوگی ۔ اس تحریک و ریلی پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم نے 28 دن پر ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے تحریک سے متعلق اپنی آگاہی کے بارے میں بتایا ۔ اپنی پوسٹ میں وزیر اعظم نے لکھا کہ میں نے گوادر کے محنتی ماہی گیروں کے جائز مطالبات کا نوٹس لیا ہے ۔ غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف سخت ایکشن لیں گے اور اس حوالہ سے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے بھی بات کرونگا ۔ یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں "گوادر کو حق دو” تحریک 28 دنوں سے جاری ہے ۔

بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے انسانی حقوق کی شدید پامالی کی جارہی ہے ۔ جبری گمشدگیاں ، ماورائے عدالت قتل ، طالب علموں کا ہوسٹلز و تعلیمی اداروں سے اغواء و قتل ، روزگار کے ناکافی وسائل سمیت بلوچ قوم کے استحصال پر ریاستی اداروں کی مجرمانہ خاموشی ایک اور سقوط کی بنیاد نہ بن جائے ۔

عمران خان کی ٹوئٹ پر گوادر تحریک کے روح رواں مولانا ہدایت الرحمان نے اپنی جوابی ٹوئٹ میں وزیر اعظم  کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دیر آید درست آید باجود یہ کہ صوبائی حکومت ہمارے مطالبات کو جائز مانتی ہے ۔ صوبائی وزراء ہم سے اپنا اظہار یکجہتی بھی کرتے ہیں کچھ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوجاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوپاتا ۔

بلوچستان میں جاری سنگین انسانی استحصال پر پاکستان کا میڈیا ، بڑی سیاسی جماعتیں ، عدلیہ و انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی اپنے آپ میں ایک سوال ہے ۔ دو دہپائیوں سے بلوچستان کی عوام بدترین مظالم کا شکار ہورہے ہیں ۔ مگر کوئی بھی ریاستی ادارہ انسانی حقوق کی پامالی پر کوئی صدائے احتجاج بلند کرتا نظر نہیں آرہا ۔ بلوچستان کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ریاست نے منفی تاثر کو ابھارا ہے ۔  جس کے ردعمل میں بلوچستان کے لوگ پرامن ردعمل کا اظہار کررہے ہیں ۔

گوادر ریلی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہمیں پاک چین اقتصادی راہداری سے سوائے چیک پوسٹوں کے کچھ نہیں ملا ۔ ہمیں لگتا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری مقامی لوگوں کی زندگیوں میں کوئی اچھی تبدیلی لائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ اس تحریک کے مطالبات بڑے نہیں بلکہ بنیادی حقوق سے متعلق ہیں ۔ ہم سی پیک کی مد میں کوئی موٹر وے نہیں چاہتے ۔ ہم نہیں کہتے کہ گوادر و مکران کی سڑکوں کو ٹائل سے مزین کردیں یا سنگ مرمر کے روڈ بنادیں ، ہمیں ایک کروڑ نوکریاں بھی نہیں چاہئیں ۔ مولانا ہدایت کا کہنا تھا کہ حکومت مقامی لوگوں کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ التا ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں ۔ ہم پاکستان کے شہری ہیں اور اپنے حقوق ریاست سے منوائے بغیر دھرنا ختم نہیں کریں گے ۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.