The news is by your side.

کل کی فتح ماضی کا حصہ آج کا میچ بہت ہے اہم : ورنن فلینڈر

پاکستان کے باؤلنگ کوچ ورنن فلینڈر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم بھول جائے کہ اتوار بروز 24 اکتوبر کیا ہوا تھا ۔ ہندوستان کے خلاف 10 وکٹوں کی تاریخی فتح اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے ۔ آنے والے میچز ایسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ چاہتے ہیں جب تک آپ اس کامیابی کے نشہ سے باہر نہیں نکلیں گیں دوبارہ ویسی کامیابیاں حاصل نہیں کرسکیں گے ۔

بطور پاکستان کے باؤلنگ کوچ اپنے پہلے میچ میں ایسی فتح سے میں بہت پر جوش ہوں ہم نے اس جیت کا جشن منالیا اب بس ۔ جو کچھ ہوا اسے بھول کر گراؤنڈ میں اتریں ۔ کھلاڑیوں کو مزید فوکس ہونے کی ضرورت ہے ۔ ایونٹ کی شروعات میں پہلی کامیابی کو آگے تک لیکر جانا ہے ۔ آنے والے سخت میچوں کے لئے تیار رہنا ہے خاص کر نیوزی لینڈ کے میچ کے لئے ۔

نیوزی لینڈ سے ہونے والا مقابلہ ایک بڑا مقابلہ ہے اس جیت سے پاکستان کے اگلے مرحلہ میں جانے کے امکانات روشن ہوجائیں گے ۔ امید ہے لڑکے اس کھیل پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے اور جیت کے لئے کام کریں گے ۔

حسن علی کی باؤلنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے فلینڈر کا کہنا تھا کہ اس میں شک نہیں حسن نے بہت رنز دئے لیکن اتنے بڑے میچ میں کسی کو قربانی کا بکرا بننا پڑتا ہے ۔ میدان کی چھوٹی باؤنڈریز زیادہ چوکے اور چھکوں کی وجہ بنی لیکن غیر معمولی باؤلنگ اور فیلڈنگ کیوجہ سے مخالف ٹیم کو کم ٹوٹل تک محدود رکھنے میں کامیابی ملی ۔

فلینڈر نے شاہین شاہ آفریدی کو ٹیم کا اثاثہ قرار دیا ۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شاہین دونوں سمتون سے گیند کو درست لائن اور لینتھ کے ساتھ کرنے کی قابلیت رکھتا ہے ۔ ایسی صلاحیت کا ہونا ہی شاندار ہے ۔ میں صرف اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں ۔

فلینڈر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستان ٹیم کے ساتھ سالون سے امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے ۔ ٹیم سے ان کی وابستگی سے پاکستان کو ترقی کرنے میں مدد ملے ۔ میری کوشش ہے کہ پاکستانی گیند بازوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق باؤلنگ کروانے میں مدد فراہم کروں ۔

تبصرے بند ہیں.